بنگلورو،30 ؍جولائی(ایس او نیوز)اس سال اگست کی 4 تا 15 تاریخ کے درمیان منعقد کی جانے والی 205 ویں پھولوں کی نمائش کے دوران کنڑ زبان کے مشہور و معروف قومی شاعر کوویمپو کو پھولوں کا زبردست خراج پیش کیا جانے والا ہے۔افسران کے مطابق قومی اعزاز یافتہ شاعر کی حیات ناصرف یوم آزادی پھولوں کی نمائش کے لئے محرک بھی ہوگی بلکہ اس کا مرکزی موضوع ہی ان کی زندگی اور ادبی خدمات ہونگے۔یہ پہلا موقع ہے کہ معروف عمارتوں کے بجائے لال باغ کی پھولوں کی نمائش کے مرکزی موضوع کے طور پر کسی شخصیت کا انتخاب کیا گیا ہے۔محکمہ باغبانی کے کمشنر پی سی رائے نے کہا کہ’’ہم راشٹرا کوی کوویمپو پراتیشٹھان کے افسران اور ریاست کے مختلف اہل قلم کے شکر گزار ہیں ، جنہوں نے وزارت باغبانی کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی کہ کوویمپو کو گنانا پیٹھ ایوارڈ سے نوازے جانے کے پچاس سال کی تکمیل کے موقع پر انہیں خراج پیش کرنے کے لئے خصوصی اہتمام کیا جائے۔
واضح رہے کہ کرناٹک کو حاصل ہونے والایہ پہلا گنانا پیٹھ ایوارڈ تھا، اور یہ کوویمپو کے تاریخی ڈرامہ شری راماینا درشنم کے لئے پیش کیا گیا تھا‘‘۔میسور ہارٹیکلچرل سوسائٹی اور محکمہ باغبانی کی طرف سے مشترکہ فیصلے کے بعد لال باغ کے افسران یہ منصوبہ تیار کر رہے ہیں کہ اس نمائش کے دوران کوویمپو کی شخصیت کے دلچسپ جہات کو واضح کرنے کے لئے مختلف طریقوں کو اختیار کیا جائے۔پھولوں کی نمائش میں ان کی شخصیت کے مختلف پہلو جیسے بطور شاعر، ناول نگار، ڈرامہ نگار اور ناقد وغیرہ کی عکاسی کی جائے گی۔ان کے ادبی شہ پاروں سے متعلق نمونوں کے علاوہ تصاویر پر مبنی نمائش کے لئے وسیع علاقہ کو مختص کیا جائے گاان کے ناڈا گیتے اور رائتا گیتے کے علاوہ وشوا مانوا سندیشا (بین الاقوامی انسان کا پیغام) کو بھی واضح طور پر پیش کیا جائے گا۔باغبانی، پارک اور باغات کے جائنٹ ڈائرکٹر ایم جگدیش نے بتایا کہ’’ اب کی بار یہاں ایک چھوٹا سا ملناڈ تعمیر کیا جائے گا اور یہ جوگ فال کے نمونہ کے ساتھ مکمل ہوگا، جہاں کوویمپو کے اشعار کو جمالیاتی طور پر پیش کیا جائے گا۔شیموگہ ضلع کے کپہلی میں موجود کوویمپو کے مکان کا نمونہ بھی پھولوں اور پھلوں سے خوبصورتی کے ساتھ ترتیب دیا جائے گا، شاعر کے نام منصوب پہاڑی یادگار کوی شائلا کو بھی پھولوں کے ذریعہ تعمیر کیا جائے گا‘‘۔ان کے علاوہ کوویمپو کی اہم تخلیقات اور تصانیف پر تقاریر و مذاکرات کا بھی اہتمام کیا جائے گااور اس میں شری راماینا درشنم، کانورو سبما ہیگڈتی اور ملیگللی مدو مگلو وغیرہ شامل ہونگے اور اس کے علاوہ کوویمپو کی نظموں کی خواندگی بھی ہوگی۔